سمجھ بوجھ
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - عقل و دانش، فہم، فراست۔ "علامہ اقبال نے ایسی ہی سمجھ بوجھ رکھنے والے کی نذر یہ شعر کیا تھا۔" ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٩٣ )
اشتقاق
پراکرت سے ماخوذ اسم 'سمجھ' کے ساتھ ہندی اسم 'بوجھ' لگانے سے مرکب 'سمجھ بوجھ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٤ء کو "مکمل مجموعۂ لکچرز و اسپیچز" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عقل و دانش، فہم، فراست۔ "علامہ اقبال نے ایسی ہی سمجھ بوجھ رکھنے والے کی نذر یہ شعر کیا تھا۔" ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٩٣ )
جنس: مؤنث